Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
154 - 470
کہیں  نہ کہیں  واجب ہو، جو چیز کہیں  واجب نہ ہواس کی نذرِ شرعی درست نہ ہوگی، دوسرے یہ کہ وہ کام عبادت ہو، تیسرے یہ کہ خالصاللہ تعالیٰ کے لئے ہو کسی بندے کے لئے نہ ہو کیونکہ نذرِ شرعی عبادت ہے اور عبادت صرف ربّ تعالیٰ کی ہی ہو سکتی ہے، ہاں  ! نذرِ لغوی بمعنے نذرانہ بندوں  کی ہو سکتی ہے مگر اس کا پورا کرنا شرعاً واجب نہیں  فاتحۂ بُزُرگان ، گیارہویں  شریف کی نذر ماننا شرعی نذر نہیں ۔ لغوی نذر ہے۔ (مِراٰۃُ المناجیح، باب فی النذورالفصل الاول،ج۵،ص۲۰۲)
	 صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمّد اَمجد علی اَعظَمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : مسجد میں  چراغ جلانے یا طاق بھرنے(1)یا فُلاں  بُزُرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارہویں  کی نیاز دِلانے یا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا تَوشہ(2)یا شاہ عبدالحق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا توشہ کرنے یا حضرت جلال بخاری کا کُونڈا کرنے یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل  لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منّت نہیں  مگر یہ کام منع نہیں  ہیں  ، کرے تو اچھا ہے۔ ہاں  ! البتہ اس کا خیا ل رہے کہ کوئی بات خلافِ شرع اوس کے ساتھ نہ ملائے مثلاً طاق بھرنے میں  رت جگا ہوتا ہے(یعنی رات بھر جاگتے ہیں) جس میں  کُنبہ(یعنی خاندان)اور رشتہ کی عورتیں  اکٹھا ہو کر گاتی بجاتی


________________________________
1 - … مسجدیامزارکے طاق میں  چراغ جلا کر پھول وغیرہ چڑھانا۔
2 - … یعنی کسی ولی یا بُزُرگ کی فاتحہ کا کھانا جو عرس وغیرہ کے دن تقسیم کیا جاتا ہے۔