تَعَالٰی عَنْہَا کی ذکرکردہ حکایت سے ہمیں نذر، سخاوت، اِیثار اور کھانا کھلانے کے متعلِّق چند مدَنی پھول چُننے کو ملے۔ آئیے! کچھ ان مدَنی پھولوں کے بارے میں مُلاحَظہ فرما لیجئے:
پہلا مدَنی پھول… نذْر:
نذْر کسے کہتے ہیں ؟
شیخُ الحدیث حضرتِ علاَّمہ عبدُ المصطفیٰ اَعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : نذرو منّت شریعت میں اس عبادت کے کام کو کہتے ہیں جو بندہ خود اپنے اوپر لازم کر لے مثلاً یہ کہا کہ اگر میرا فلاں مقصد پورا ہو گیا تو میں اتنی رکعتیں نفل پڑھوں گا یا اتنے روزے رکھوں گا یا اتنے مسکینوں کو خدا کی رضا کے لئے کھانا کھلاؤں گا یا کوئی بھی نیک کام کروں گا۔ (مَسَائِلُ الْقُرْاٰن،منت ماننے کا بیان، ص۱۹۷)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نذْر کے بارے میں اَہَم معلومات
شارِحِ مشکوٰۃ،حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ’’مراٰۃُ المناجیح‘‘ جلد5 صَفْحَہ202 پر فرماتے ہیں : غیرِ واجب عبادت کو اپنے پر واجب کرلینا نذْر ہے، نذرِشرعی میں یہ شرط ہے کہ ایسی چیز کی نذر مانی جائے جو