Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
152 - 470
کائنات، علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْم وحضرتِ سیِّدَتُنا    بی بی فاطِمہ اور خادِمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فِضَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ان شہزادوں  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کی صِحّت یابی کے لئے تین روزوں  کی مَنّت مانی۔اللہ تعالیٰ نے صحت دی، نذر کی وفاکا وقت آیاسب صاحبوں  نے روزے رکھے؛ حضرتِ سیِّدُنامولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْم ایک یہودی سے تین صاع جَو لائے، حضرت خاتونِ جنّت نے  ایک ایک صاع (یعنی چار کِلو میں  160 گرام کم) تینوں  دن پکایا لیکن جب اِفطار کا وقْت آیا اور روٹیاں  سامنے رکھیں  تو ایک دن مِسکین، ایک دن یتیم اور ایک دن قیدی دروازے پر حاضِر ہو گئے اور روٹیوں  کا سُوال کیا تو تینو ں  دن سب روٹیاں  ان سائلوں  کو دے دیں  اور صِرف پانی سے اِفطار کر کے اگلا روزہ رکھ لیا۔
 (خَزَائِنُ الْعِرْفَان، پ۲۹، الدَّھر تحت الایۃ:۸ ص۱۰۷۳، ملخصاً)
بھوکے رہ کے خود اَوروں  کو کھلا دیتے تھے
کیسے صابِر تھے محمّد کے گھرانے والے!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’حسین‘‘ کے چار حروف کی نسبت سےذکر کردہ حکایت کے 4 مدَنی پھول
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! سیِّدۃُ النساء فاطِمۃُ الزَّہراء  رَضِیَ اللہُ