Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
151 - 470
	اس ناداری اوراَفلاس کی وجہ یہ نہ تھی کہ دنیا کی دولت انہیں  مل نہ سکتی تھی بلکہ یہ خاندانِ نُبُوّت کا وہ اِمتیاز ہے جس نے فقر واِستِغنا کا آخِری تصوُّر قائم کر کے یہ ثابت کر دیا کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ   کے لئے جیتے اورمرتے ہیں  دنیا کی زیبائش وآرام اوراَثاثہ ودولت ان کے لئے خاکِ پا سے بھی کم تر حیثیَّت رکھتی ہے وہ دنیا کو دینے کے عادی ہوتے ہیں  ، لینے کے نہیں  اورنامْوَری اس وقت مزید عروج ودوام پا لیتی ہے جب بندہ اَفعالِ محمودہ پر کاربند اور اَخلاقِ حَسَنَہ سے مُتّصف ہو جاتا ہے بنتِ رسول فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی ناموری اورنیک نامی سے کون مسلمان ناواقف ہے حسب ونسب کی برتری اورمذہب وملّت کی طرف سے ملنے والی بڑائی تو ہے ہی مزید نیک اَفعال وحُسنِ اَخلاق نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کانام ہمیشہ کے لئے اَوراقِ تاریخ میں  سنہری حروف سے مکتوب اور اَذہانِ مؤمنین میں  منقوش ہوگیا۔ 
سائلین کی حاجت روائی
	دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صفْحات پر مشتمِل کتاب ’’فیضانِ سنّت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ1442 پر ’’تفسیرِ خزائن ُ العرفان‘‘ کے حوالے سے نقْل فرماتے ہیں  : حضراتِ حَسَنَینِ کریمَینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  بچپن میں  ایک بار بیمار ہو گئے تو امیرُ الْمُؤْمِنِین حضرتِ مولائے