Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
150 - 470
میری بگڑی بنانے والے پر
بھیج اے میرے کِردگار سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! کون نہیں  جانتا کہ سیِّدَہ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اس فقیدُ المثال (بے مثال) عظَمت کے مالک باپ کی لختِ جگر ہیں  جن کے قدموں  میں  دنیا بھر کے خزانے بچھے رہتے تھے اوراسلام کے اس مایہ ناز فرزند کی اَہلیہ تھیں  جن کی شمشیرِ جوہر دار نے صفحۂ ہستی پر اَنمٹ(نہ مٹنے والے) نُقُوش ثبت کرکے دنیا کو ورطۂ حیرت (وَرْ۔طَہ ۔ حَیْ ۔رَت یعنی انتہائی حیرانی) میں  ڈال دیا تھا، دنیا اس گھرانے کے تقدُّس کی قسم کھاتی تھی، لیکن اس کے باوجود دُخترِ خیرُا لانام نے زندگی اس حالت میں  گزاری کہ کبھی پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا نہ کھایا، جو ملتا اس کو بھی دوسروں  پر نچھاور کر دیتیں  اور خود فقروفاقہ سے زندگی بسر کرتیں  اور جس مکاں  میں  رہتیں  وہاں  آرائش و زیبائش کا نام ونشان تک نہ تھا قیمتی اور خوبصورت بستر وغیرہ کا ذِکْر ہی کیا وہاں  تو بعض اوقات معمولی سا بستر بھی بمشکل میسر آتا۔ ایک دفعہ رسولِ اَنوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی محبوب نورِنظر سے ملنے تشریف لائے تو دیکھا کہ اس قدَر چھوٹی چادر اَوڑھ رکھی ہے کہ سر ڈھانپتی ہیں  تو پاؤں  کھل جاتے ہیں  اور پاؤں  چھپاتی ہیں  تو سر کھل جاتا ہے۔
(ماخوذ از مُکَاشَفَۃُ الْقُلُوب، باب فی فضل الفقرا، ص۱۸۰)