Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
145 - 470
اس سنّتوں  بھرے مَدَنی ماحول نے لاکھوں  بے نمازیوں  کو نمازی بنا دیا، فیشن کے متوالوں  کو سنّتوں  پر عمل کا ذہن دیا، لند ن، پیرس کے سپنے دیکھنے والوں  کو مدینے کا دیوانہ بنایا اور نہ جانے کیسے کیسے بگڑوں  کو راہِ راست پر لایا، ایسی ہی ایک مَدَنی بہار مُلاحَظہ کیجئے، چُنانچِہ پنجاب (پاکستان)  میں  مقیم اسلامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میرے گھر کا ماحول یوں  تو مذہبی تھا کہ میرے ابُّو جان مسجِد میں  مؤَذِّن اور بڑی بہن اوربھائی جان دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ تھے، مگر میرا ذہن دُنیاوی لذّتوں  میں  بدمست اورنفس گناہوں  پر دلیر تھا،نَمازیں  قَضا کر ڈالنا میری عادت تھی۔ ایک دن چند اسلامی بہنیں  ہمارے گھر دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں  بھرے اِجتماع کی دعوت دینے کے لئے تشریف لائیں ۔ اُن کے مَحَبَّت بھرے انداز سے میرادل پسیج گیا اور میں  نے اِجتِماع میں  شرکت کی نیَّت کر لی۔ جب وہاں  گئی تو ایک مُبَلِّغَہ دعوتِ اسلامی نے 'بے نَمازی کی سزائیں  'کے موضوع پر دل ہلا دینے والا بیان کیا جسے سُن کر میں  تھرّا اٹھی اور میں  نے پکّی نیّت کی کہ اِنْ شَا0ئَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آج کے بعد میری کوئی نَماز قضا نہیں  ہو گی۔ پھر ماہِ ربیعُ النُّور شریف کا موسِمِ بہار آیا تو میں  اسلامی بہنوں  کے اجتماعِ میلاد میں  شریک ہوئی جہاں  ایک اسلامی بہن نے ’’TV کی تباہ کاریاں  ‘‘بیان کیں ۔ اس بیان کو سُن کر میرے رُونگٹے کھڑے ہو گئے اور میری آنکھوں  سے آنسوؤں  کی جھڑی لگ گئی۔ وہ دن