’’تفسیرِ نورُالعرفان‘‘ میں اس آیتِ مبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے۔ایک یہ کہ گھر میں رہنے والے تمام لوگ انسان کے اہل کہلاتے ہیں ۔ بیویاں ، اولاد، بھائی، برادر وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ نمازی کامل وہ نہیں جو صرف خود نماز پڑھ لیا کرے بلکہ وہ ہے جو خود بھی نمازی ہو اور اپنے سارے گھر والوں کو نمازی بنا دے۔ تیسرے یہ کہ حکمِ نماز کی نوعیتیں جُداگانہ ہیں ۔ چھوٹے بچوں اور بیوی کو مار کر نماز پڑھائے۔ بھائی برادر کو زبانی حکم دے۔
(تفسیر نور العرفان، پ۱۶، طٰہٰ، تحت الاٰیۃ:۱۳۲،ص۳۸۶)
صدائے مدینہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو! نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزانہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر جاتے اور اُنہیں نماز کے لئے اُٹھاتے۔ اَسلافِ اُمّت کا بھی یہی معمول تھا۔ آپ بھی کوشش کیجئے کہ نمازِ فجر میں خود بیدار ہو کر اپنے محارم کو بھی بیدار فرمایا کریں ،اگر آپ سے چھوٹے نماز میں سستی کرتے معلوم ہوں توانہیں حسبِ موقع ڈانٹ کر نماز پڑھائیں اور بڑوں کو ادَب کے دائرے میں رہ کر عرْض کریں ۔
میں نماز نہیں پڑھتی تھی
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دعوتِ اسلامی کی برکتوں کے کیا کہنے!