لڑکیوں کی پروَرِش کرے ؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس کے لئے بھی یِہی اَجر و ثواب ہے یہاں تک کہ اگر لوگ ایک کا ذِکر کرتے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔(شَرْحُ السُّنَّۃِ لِلْبَغْوِی، ج۶، ص۴۵۲، الحدیث:۳۳۵۱ مُلَخَّصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آقا شہزادی کو نماز کے لئے بیدار کرتے
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ فرماتے ہیں : چھ مہینے تک نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ معمول رہاکہ نمازِ فجر کے لئے جاتے ہوئے حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو فرماتے:’’ اے اہلِ بیت ! نماز، اللہ عَزَّوَجَلَّ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ ‘‘
(سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب تفسیر القراٰن، باب ومن سورۃ الاحزاب، ص۷۴۱، الحدیث:۳۲۰۶)
پارہ 16، سورۂ طٰہٰ، آیت نمبر 132 میں ارشادِ ربُّ العُلی ہے:
وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ۔
مُفَسِّرِ شہیر، حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی