سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملاقات فرماتے۔(اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحَاکِم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، اذا سافر النبی… الخ، ج۴، ص۱۴۱، الحدیث:۴۷۹۲)
آمدِ مصطفٰے پر اندازِ اِستِقبال
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ، صِدِّیقہ،طیِّبہ،طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ جب حُضُور پُرنور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کے لئے قیام فرماتیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک ہاتھوں کو تھام کر بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں ۔
(سُنَنُ التِّرْمِذِی، ص۸۷۱، الحدیث:۳۸۷۱ ملتقطاً)
امیرِ اہلسنّت اور اِتِّباعِ سنّت
امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا اندازِ سفر بھی کچھ اس طرح سے ہے کہ جب آپ سفر کے لئے بیرونِ ملک تشریف لے جاتے ہیں تو اپنی شہزادی سے ملاقات کر کے جاتے ہیں اور جب واپس تشریف لاتے ہیں تو اکثر سب سے پہلے اپنی شہزادی کے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔اَحادیثِ مبارَکہ میں بیٹی کے بَہُت زیادہ فضائل وارِد ہیں ، چُنانچِہ