ہیں ، بھائیوں میں سب سے زیادہ پیارے علی مرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہہیں اَزواجِ پاک میں بہت پیاری جنابِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں ، غرض کہ ایک محبت کے سلسلہ میں جنابِ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت پیاری دوسرے سلسلہ میں حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت پیاری ۔ مقابلہ ایک سلسلہ کے افراد میں ہوتا ہے۔
(مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، اہل بیت کے فضائل ج۸، ص۴۶۹)
جگر گوشۂ رسول
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشاد ہے: ’’فاطِمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) تمام اہلِ جنّت یا مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہے۔‘‘ مزید فرمایا: ’’فاطِمہ میرے بدن کا ایک ٹکڑا ہے جس نے فاطِمہ کو ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘
(مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح، کتاب المناقب، باب مناقب اہل بیت النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ج۲، ص۴۳۵۔۴۳۶، الحدیث:۶۱۳۸۔۶۱۳۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سفرِ مصطفٰے کی ابتداء وانتہا
حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ اِبنِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہُمافرماتے ہیں : نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب سفر کا اِرادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملاقات فرماتے اور جب سفر