رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہفرماتے ہیں میں اپنی پُھو پھی کے ساتھ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے عرض کی گئی : حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کون زیا دہ محبوب تھا؟ فرمایا: فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پھر عرض کی گئی : مردوں میں سے ؟ فرمایا! ان کے شوہر ، جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ بَہُت روزے رکھنے والے اور کثرت سے قیام کرنے والے ہیں ۔(سُنَنُ التِّرْمِذِی، اَبوابُ المَنَاقِب…الخ، باب فضل فاطمۃ، ص۸۷۲، الحدیث:۳۸۷۷)
شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ ہے حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حق گوئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ نہ فرمایا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سب سے زیادہ پیاری ’’میں ‘‘تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اگر یہ ہی سوال حضرتِ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوتا تو آپ فرماتیں کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو زیادہ پیاری جنابِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تھیں پھر ان کے والد۔ معلوم ہوا کہ ان کے دل بالکل پاک و صاف تھے۔ افسوس ان پر جواِن حضرات کو ایک دوسرے کا دشمن کہتے ہیں ۔ خیال رہے کہ محبت بہت قسم کی ہے اور محبوبِیّت کی نوعیتیں مختلف ہیں اولاد میں سب سے زیادہ پیاری جنابِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا