صفْحات پر مشتمل رسالے ’’بُڈھا پُجاری‘‘ صفْحہ28 پرشیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ نقْل فرماتے ہیں : ایک دن حُضور سراپانور صصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکعبۂ معظمہزادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًا کے قریب نَماز پڑھ رہے تھے اورکفّارِ قریش ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ تم ان کو دیکھ رہے ہو؟پھر بولا:تم میں کون ایسا ہے جوفُلاں قبیلے سے ذَبح کردہ اونٹنی کا بچّہ دان اُٹھا لائے اورجب یہ سَجدے میں جائیں تو ان کے کندھوں پر رکھ دے ؟اس پر بدبخت عُقبہ بِن اَبِی مُعِیط اٹھ کر چل دیااور بچّہ دان (یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے) لاکر رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دونوں مبارَک شانوں کے درمیان رکھ دی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی حال میں رہے اور سرِ مبارَک سَجدے سے نہ اٹھایا اوروہ سب کے سب قَہقَہے مار کر ہنستے رہے ،یہاں تک کہ خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (جن کی عمر اُس وقت بمشکل آٹھ سال تھی) آئیں اورانہوں نے حیببِ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پُشتِ اطہر سے اس گندگی کو اُٹھا کر پھینکا۔ تب سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا سرِاقدس اٹھایا اور اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے دربار میں عرض گزار ہوئے۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !ان قُریشیوں کو پکڑ۔ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تُوابوجہل بن ہشّام ، عُتبہ بن رَبیعہ، شَیبہ بن ربیعہ، ولید بن عُتبہ، اُمَیّہ بن خَلف