Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
135 - 470
عورت کا تنہا سفر کرنا کیسا؟
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! عورت کا شوہر یا مَحرم کے بغیر تنہا تین دن کی مسافت پر واقع کسی جگہ جانا حرام ہے، یہاں  تک کے اگر عورت کے پاس سفرِ حج کے اسباب ہیں  مگر شوہر یا کوئی قابلِ اطمینان مَحرم ساتھ نہیں  تو حج کے لئے بھی نہیں  جا سکتی اگر گئی تو گنہگار ہو گی اگرچہ فرض حج ادا ہو جائے گا۔ البتہ فقہا متأخرین (مُ۔تَ۔اَخ۔خِرِیْن) نے ایک دن کی مسافت پر عورت کے بے مَحرم جانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔
 (مأخوذ از رَدُّ الْمُحْتَار، کتاب الحج، مطلب فی قولھم یُقَدَّمُ حَقُّ الْعَبْدِ…الخ  ج۳، ص۵۳۳)
	دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’ بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صفْحہ 752 پر ہے: عورت کو بغیر مَحرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔ نابالِغ بچّہ یا مَعتُوہ کے ساتھ بھی سفر نہیں  کر سکتی، ہمراہی میں  بالغ مَحرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے۔ (فَتَاوٰی عَالَمْگِیْرِی، کتاب الصلٰوۃ، الباب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر، ج۱، ص۱۵۶،۱۵۷)
	بَیَان کردہ مسئلہ میں  ’’تین دن کی مسافت‘‘ کا ذکر ہے، خشکی کے سفر میں  تین دن کی مسافت سے مراد ساڑھے 57 میل کا فاصلہ ہے۔ (مأْخُوْذ از فَتَاوٰی