Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
134 - 470
	مسافر کو چاہئے کہ وہ دُعا سے غفلت نہ کرے کہ یہ جب تک سفر میں  ہے اس کی دُعا قبول ہوتی ہے بلکہ جب تک گھر نہیں  پہنچتا اس وقت تک دُعا مقبول ہے اسی طرح مظلوم کی دُعا اور ماں  باپ کی اپنی اولاد کے حق میں  دعابھی قبول ہوتی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، سرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تین قسم کی دعائیں  مستجاب (یعنی مقبول)ہیں  ان کی قبولیت میں  کوئی شک نہیں  : (۱)…مظلوم کی دُعا (۲)…مسافر کی دُعا (۳)…باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دُعا۔
 (جَامِعُ التِّرْمِذِی، کتاب الدعوات، باب ما ذکر فی دعوۃ المسافر، ص۷۹۳، الحدیث:۳۴۴۸)
	جب کسی مشکل میں  مدد کی ضرورت پڑے تو حدیثِ پاک میں  ہے اس طرح تین بار پکاریں  : ’’اَعِیْنُونِیْ یَا عِبَادَ اللہ یعنی اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو۔‘‘(اَلْحِصْنُ الْحَصِیْن، کتاب ادعیۃ السفر، ص۸۲ ، مُلَخَّصاً) 
	سفر سے واپسی پر گھر والوں  کے لئے کوئی تحفہ لے آئیں  کہ یہ سنّتِ مبارَکہ ہے۔ رسولِ اَکرَم، نورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: ’’جب سفرسے کوئی واپس آئے تو (گھر والوں  کے لئے) کچھ نہ کچھ ہدیہ لائے، اگرچہ اپنی جھولی میں  پتھر ہی ڈال لائے۔ ‘‘
(کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب السفر، قسم الاقوال، ج۳، الجزء السادس، ص۳۰۱، الحدیث:۱۷۵۰۲)