برداشت نہ کر سکتی تھیں ، چُنانچِہ
بابا جان کی مشقّت کو دیکھ کر رونا
حضرتِ سیِّدُنا ابوثَعْلَبَہ خُشَنِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ سے روایت ہے: حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب کبھی سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادافرماتے اس کے بعد پہلے حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر اور پھر اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے گھر تشریف لے جاتے، راوی فرماتے ہیں : ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں تشریف لائے توانہوں نے دروازے پر آپ کا استقبال کیا اورآپ کو دیکھ کر رونے لگیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :کیوں روتی ہو؟عرض کی:میں آپ کا رنگ بدلا ہوااور تکلیف میں دیکھ رہی ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اے فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا! تیرے باپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے کام کے لئے بھیجا ہے کہ رُوئے زمیں پر کوئی شہری اور دیہاتی گھر نہ بچے گا مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے باپ کے ذریعے یہ کام (یعنی دینِ اسلام) عزَّت کے ساتھ پہنچا دے گا، یہ دین وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک رات کی پہنچ ہے۔
(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، عُرْوَہ بن رُوَیْم لَخْمِی، ج۹، ص۲۶۴، الحدیث:۱۸۰۴۱)