Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
129 - 470
خیانت کی بات یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں  سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔
(سُنَنُ اَبِیْ دَاؤُد، کتابُ الادَب، بابٌ فِی الْمَعَارِیْض، ص۷۷۸، الحدیث:۴۹۷۱)
	حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ نبیِّ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ پاک ہے: ’’مومن کی طبع میں  خیانت اور جھوٹ کے علاوہ تمام خصلتیں  ہو سکتی ہیں ۔‘‘ (مُسْنَدِ اَحْمَد، ج۹، ص۱۷۲، الحدیث:۲۲۸۰۶)یعنی یہ دونوں  چیزیں  ایمان کے خلاف ہیں  ، مومن کو ان سے دُور رہنے کی بَہُت زیادہ ضرورت ہے۔
اللہ! ہمیں  جھوٹ سے، غیبت سے بچانا	مولیٰ! ہمیں  قیدی نہ جہنَّم کا بنانا
اے پیارے خدا! از پئے سلطانِ زمانہ	جنَّت کے مَحَلّات میں  تُو ہم کو بسانا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ!		اَسْتَــغْفِرُ اللہ     
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بَہُت زیادہ لگاؤ تھا، سیِّدہ فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی مشقت میں  دیکھ کر