اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘(صَحِیْح مُسْلِم، کتابُ البر والصلۃ، بابُ قُبْحِ الکَذِبِ…الخ، ص۱۰۰۸، الحدیث:۲۶۰۷)
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ عظیم ہے: جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور وہ باطل ہے (یعنی جھوٹ چھوڑنے کی ہی چیز ہے) اس کے لئے جنّت کے کنارے میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے جھگڑا کرنا چھوڑا اور وہ حق پر ہے (یعنی حق پر ہونے کے باوجودجھگڑا نہیں کرتا)، اس کے لیے وسطِ جنت میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کئے، اس کے لئے جنّت کے اعلیٰ درجہ میں مکان بنایا جائے گا۔
(جَامِعُ التِّرْمِذِی، کتابُ البِرِّ وَالصِّلَۃ، بابُ مَا جَآء فِی المِرَاء، ص۴۸۴، الحدیث:۱۹۹۳)
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فِرِشتہ ایک میل دُور ہو جاتا ہے۔‘‘(جَامِعُ التِّرْمِذِی، مَا جَاءَ فی الصِّدقِ وَالْکَذِب، ص۴۸۱، الحدیث:۱۹۷۲)
حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن اُسَیْد حَضْرَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہُفرماتے ہیں ، میں نے رسول ُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ بڑی