Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
126 - 470
’’چار خصلتیں  ایسی ہیں  کہ اگر وہ تم میں  ہوں  تو تمہیں  دنیا کی کسی محرومی کا احساس نہیں  ہو گا: (۱)…امانت کی حفاظت کرنا (۲)…سچ بولنا (۳)…حُسْنِ اَخلاق اور(۴)…حلال کمائی کھانا۔(مُسْنَدِ اَحْمَد، مُسْنَدِ عَبْد اللہ بن عمرو، ج۳، ص۵۸۴، الحدیث:۶۸۱۲)
	حضرتِ سیِّدُنا ابواُمَامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے کہسیِّدُ المُبَلِّغِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ختم کرے میں  اس کے لئے جنّت کے کنارے پرایک گھر کی  ضَمانَت دیتا (یعنی ذمّہ داری لیتا) ہوں  ، جھوٹ اگرچہ مِزاح کے طور پر ہی ہو، تَرْک کرنے والے کو جنّت کے وَسْط(یعنی درمیان) میں  ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں  اور اچھے اَخلاق والے کو جنّت کے اعلیٰ درجے میں  ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں ۔‘‘(سُنَنُ اَبِیْ داؤد، کتابُ الادَب، باب فی حُسْنِ الخُلْق، ص۷۵۵ الحدیث:۴۸۰۰)
	حضرتِ سیِّدُنا منصور بن معتمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ  سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیُوب،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  ارشادفرمایا: سچ بولا کرو اگرچہ تمہیں  اس میں  ہلا کت نظر آئے کیونکہ اسی میں  نجات ہے۔ (مَکارم الاخلاق لابنِ اَبِی الدُّنْیا، ص۱۱۱)