ہیں ، آئیے ! آپ کی خدمت میں اس کی چند برکات پیش کی جاتی ہیں چُنانچِہ
سچ کی برکتیں
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الرَّحمن بن حارِث بن ابو قُراد سُلَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ فرماتے ہیں کہ ہم نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وضو کے لئے پانی منگوایا۔ پھر اس میں اپناہاتھ ڈالااور وضو فرمایا۔ ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غُسالَہ مبارَکہ کی جستجو کی اور اسے تھوڑا تھوڑا پی لیا تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ تمہیں اس کا م پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ہم نے عرض کیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی محبت نے۔ فر مایا، اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تم سے محبت کریں تو جب امانتیں تمہارے سپرد کی جائیں تو انہیں اداکردیاکرو اور جب تم بولنے لگو تو سچ بولا کرو اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو۔
(مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج۸، ص۴۸۴، الحدیث:۱۴۰۱۶)
حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: