Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
124 - 470
سا دل'باغی' ہو جاتا ہے۔ بچّے کی موجودَگی میں  کسی معزَّز شخص سے اُسی بچّے کے بارے میں  اِس طرح کی شکایات کرنا مَثَلاً 'اِس کو سمجھاؤ، یہ تنگ بَہُت کرتا ہے بَہُت شرارتی ہے، ماں  باپ کا کہنا نہیں  مانتا وغیرہ' عقلمندی نہیں  ،کیوں  کہ اس سے بچّے کی اصلاح ہونا درکَنار اُلٹا ذِہن یہ بنتا ہوگا کہ مجھے ماں  باپ نے فُلاں  کے سامنے ذلیل کر دیا! آج کل اولاد کی نافرمانیوں  کی شکایات عام ہیں ۔ اِس کی وجوہات میں  بچپن میں  ماں  باپ کا بات بات پر بے جا چیخ و پکار کرنا اور بچّے کو دوسروں  کے سامنے وقتاً فوقتاً ذلیل و خوار کرنا بھی شامل ہو تو بعید از قِیاس نہیں ۔
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں 
ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صداقتِ سیدہ زَہراء
	اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  کہ میں  نے حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے سچا اُن کے والد کے علاوہ کسی اور کو نہیں  دیکھا۔(مُسْنَدِ اَبِیْ یَعْلٰی، مسندِ عائشہ ج۴، ص۶۵، الحدیث:۴۶۹۸)
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  خود سچی اور سچے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی ہیں ۔ سچ کی بَہُت زیادہ برکات