خوش الحانی کہ اجنبی سنے مَحَلِّ فتنہ ہے۔(فَتَاوٰی رَضَوِیَّہ، ج۲۲، ص۲۴۰)
عورت کے راگ کی آواز
میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت ایک اور سُوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : عورت کا(نعتیں وغیرہ)خوش اِلحانی سے بآواز ایسا پڑھنا کہ نا مَحرموں کو اُس کے نغمے(یعنی راگ و ترنُّم) کی آواز جائے حرام ہے۔ 'فتاویٰ نَوازِل از فَقیہ ابو لَیْث سمرقندی (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) میں ہے، عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا ’’عورَۃ‘‘ یعنی مَحَلِّ سِتْر (چُھپانے کی چیز) ہے۔ ’’کافی(از) امام ابو البرکات نسفی‘‘ میں ہے، عورت بُلند آواز سے تَلْبِیَہ(یعنی لَبَّیْکَ اللھُمَّ لَبَّیْکَ) نہ پڑھے اس لئے کہ اس کی آواز قابلِ سِتْر (چُھپانے کے قابِل چیز) ہے۔
(فَتَاوٰی رَضَوِیَّہ، ج۲۲، ص۲۴۲)
عَلَّامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں ، عورَتوں کو اپنی آوازبُلند کرنا، انھیں لمبا اور دراز (یعنی ان میں اُتار چڑھاؤ)کرنا، ان میں نَرم لہجہ اختیار کرنا اور ان میں تَقْطِیع کرنا (کاٹ کاٹ کرتَحلیلی عَروض یعنی نظم کے قواعد کے مطابِق) اَشعار کی طرح آواز یں نکالنا، ہم ان سب کاموں کی عورَتوں کو اجازت نہیں دیتے، اس لئے کہ ان سب باتوں میں مردوں کا اُن کی طرف مائل ہو نا پایا جائے گا اور اُن مردوں میں جذباتِ شہوانی کی تحریک پیدا ہو گی اِسی وجہ سے عورت کو یہ اجازت نہیں کہ وہ