کرنی پڑ جائے تواُس)سے لب و لَہجہ قد رے رُوکھا سا ہو۔ آواز لَوچ دار ونرم اور انداز بے تَکَلُّفا نہ، نہ ہو۔
(رَدُّ الْمُحْتَار، کتاب الصلٰوۃ، مطلب فی ستر العورۃ، ج۲، ص۹۷، مُلَخَّصاً)
چُونکہ اِس کی رِعایت بَہُت مُشکِل ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ان مسائل کو اپنے مَحارِم کے ذَرِیْعے پیر صاحِب تک پہنچائے۔ نیز بِلا حاجت نامحرم پیر صاحِب سے بھی گفتگو نہیں کر سکتی۔ مَثَلاً محض سلام دُعا اور مزاج پُرسی وغیرہ کیلئے فون پر بھی بات نہ کرے کہ یہ حاجت میں داخِل نہیں ۔
اسلامی بہنیں نعتیں پڑھیں یا نہیں ؟
سُوال:اسلامی بہنیں اسلامی بہنوں میں نعتیں پڑھ سکتی ہیں یا نہیں ؟
جواب: اسلامی بہنیں ، اسلامی بہنوں میں بِغیر مائیک کے اس طرح نعت شریف پڑھیں کہ اُن کی آواز کسی غیر مرد تک نہ پہنچے۔ مائیک کااس لئے مَنع کیا کہ اِس پر پڑھنے یا بیان کرنے سے غیر مردوں سے آواز کو بچانا قریب قریب ناممکن ہے۔ کوئی لاکھ دل کو منا لے کہ آواز شامیانے یا مکان سے باہَر نہیں جاتی مگر تجرِبہ یہی ہے کہ لاؤڈاسپیکر کے ذَرِیعے عورت کی آواز عُمُوماً غیر مردوں تک پَہنچ جاتی ہے بلکہ بڑی محافل میں مائیک کا نظام بھی تواکثر مرد ہی چلاتے ہیں !سگِ مدینہ عفی عنہ کو ایک بار کسی نے بتایا کہ فُلاں جگہ محفل میں ایک صاحِبہ مائیک پر بیان فرما رہی