Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
119 - 470
اور254تا260پر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال  محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  :
عورَت پیر سے بات چیت کرے یا نہ؟
سُوال: کیا اسلامی بہن نامَحرم پیر یا دیگر لوگوں  سے بات کر سکتی ہے ؟
جواب: صِرف ضَرورت کے وَقت کر سکتی ہے۔ اِس کی صُورَتیں  بیان کرتے ہوئے میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مُجَدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ احمد رضا خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : تمام مَحارِم(سے گفتگوکر سکتی ہے)اور (اگر) حاجت ہو اور اندیشۂ فتنہ نہ ہو، نہ خَلْوَت (یعنی تنہائی)ہو تو پردے کے اندرسے بعض نامَحرم سے بھی(بات کر سکتی ہے)۔(فَتَاوٰی رَضَوِیَّہ، ج۲۲، ص۲۴۳)
	پیر صاحب سے اُن کی اجازت کے بِغیر بات چیت نہ کی جائے نیز اُن کو گفتگو کے لئے مجبور بھی نہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک گفتگو نہ کرنے ہی میں  بہتری ہو۔
پیر اور مُریدَنی کی فون پربات چیت
سُوال:کیا اسلامی بہن پیر سے بَذَرِیْعہ فون اپنی پریشانی کے حل کے لئے دُعا کی درخواست کر سکتی ہے؟
جواب:کر تو سکتی ہے۔ مگر نامَحرم پیر صاحِب (یا کسی بھی غیر مرد سے ضَرورتاً بھی بات