Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
118 - 470
والا نہیں  دیکھا۔‘‘(اَلْاَدَبُ الْمُفْرَد، باب قیام الرجل لاخیہ، ص۲۷۸، الحدیث:۹۴۷)
	سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اندازِ گفتگو بیان کرتے ہوئے اُمُّ المؤمِنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  بَیَان فرماتی ہیں  : میرے سرتاج، صاحبِ معراج، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (نہایت ہی وقار کے ساتھ) اس طرح (ٹھہر ٹھہر کر) گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جملوں  کو گننا چاہتا تو وہ گِن سکتا تھا۔
(صَحِیْحُ الْبُخَارِِی، کتاب المناقب، بابُ صِفَۃِ النَّبِیِّ، ص۹۰۸، الحدیث:۳۵۶۷)
آواز کا پردہ
         پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ سیِّدَ ہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا اندازِ گفتگو بھی سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مُشابَہت رکھنے والاتھا اسلامی بہنوں  میں  سے بعض تو چلّا چلّاکر باتیں  کرتی ہوں  گی۔ بعضوں  کی آواز سے تو گھر والے کیا ہمسائے بھی پریشان ہوتے ہوں  گے۔ آئیے! اس بارے میں  بھی معلومات حاصل کیجئے کہ اسلامی بہنوں  کی گفتگو کا انداز کیا ہو۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 397 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’پردے کے بارے میں  سوال جواب‘‘ صفْحہ90تا 92