مُفَسّرِ شہیر، حکیم ُ الْا ُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ذکر کردہ حدیثِ پاک کے ان الفاظ ’’جو پہن کر ننگی ہوں گی‘‘کے تحت فرماتے ہیں : یعنی جسم کا کچھ حصّہ لباس سے ڈھکیں گی اور کچھ حصّہ ننگا رکھیں گی یا اتنا باریک کپڑا پہنیں گی جس سے جسم ویسے ہی نظر آئے گا یہ دونوں عُیوب آج دیکھے جا رہے ہیں ۔ یا، اللہ کی نعمتوں سے ڈھکی ہوں گی شکر سے ننگی یعنی خالی ہوں گی یا زیوروں سے آراستہ، تقویٰ سے ننگی ہوں گی۔ اور ’’کوہانوں کی طرح ہو ں گے‘‘کے تحت فرماتے ہیں : اس جملہ مبارَکہ کی بَہُت تفسیریں ہیں ، بہتر تفسیر یہ ہے کہ وہ عورَتیں راہ چلتے شرم سے سر نیچا نہ کریں گی بلکہ بے حیائی سے اُونچی گردن کئے سر اُٹھائے ہر طرف دیکھتی، لوگوں کو گُھورتی چلیں گی جیسے اُونٹ کے تمام جسم میں کوہان اُونچی ہوتی ہے ایسے ہی ان کے سر اُونچے رہا کریں گے۔
(مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج۵، ص۲۵۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدَہ فاطمہ کا اندازِ گفتگو
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو اور بیٹھنے میں حضرتِ فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بڑھ کر کسی اور کو حضورِ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس قدَر مُشابَہت رکھنے