Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
116 - 470
موقع پر گھر سے باہَر نکلنے کیلئے لالی پاؤڈر اور خوشبووغیرہ لگانا اور فیشن کے کپڑے پہن کر مَعَاذَ اللہ غیر مَردوں  کے لئے جاذِبِ نظر بننا جیسا کہ آج کل عام رَواج ہے یہ سخت ناجائز و گناہ ہے۔ باریک دوپٹّا جس سے بالوں  کی رنگت جَھلکے یا باریک کپڑے کی جُرابیں  جِس سے پاؤں  کی پنڈلیاں  چمکیں  یا ایسے چُست لباس میں  ملبوس جس میں  جسم کے کسی عُضْو مَثَلاً سینے وغیرہ کا اُبھار نُمایاں  ہو غیرمَحرْموں  کے سامنے آناجانا حرام اور جہنَّم میں  لے جانے والا کام ہے۔
لباس کے باوُجُود ننگی
	حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب،  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک حدیثِ پاک میں  یہ بھی ارشادفرمایا: دوزخیوں  میں  دو قسمیں  ایسی ہوں  گی جنہیں  میں  نے (اپنے اِس عَہدِ مبارَک میں  ) نہیں  دیکھا (یعنی آیندہ پیدا ہونے والی ہیں  ) ان میں  ایک قسم ان عورَتوں  کی ہے جو پہن کر ننگی ہوں  گی، دوسروں  کو (اپنی حرکتوں  کے ذَرِیعے) بہکانے والیاں  اور خود بھی بہکی ہوئیں  ، ان کے سر بختی اونٹوں  کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہانوں  کی طرح ہو ں  گے، وہ جنّت میں  داخِل نہ ہوں  گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں  گی اور اس کی خوشبو اتنی اتنی دُوری سے پائی جاتی ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، بابُ النساء الکاسیات…الخ ، ص۸۴۶،الحدیث:۲۱۲۸، مُلَخَّصاً)