Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
114 - 470
نے انہیں  نمازیں  پڑھنے کا ذہن دیا، حیا کا درس دیا، مدَنی بُرقَع پہنایا، اسی ماحول کی برکت سے انہیں  تلاوتِ قراٰن کا ذہن ملا، درود وسلام کی ترغیب ملی، گھر درس کی سعادت نصیب ہوئی، مٹّی کے برتن میں  کھانا کھانے کا ذہن ملا اور اس کے علاوہ اچھی اچھی نیّتیں  کرنے، اذان کا جواب دینے، توبہ کے نوافل ادا کرنے، سنّت کے مطابق سونے، فضول سوالات سے بچنے، غصّہ کا علاج کرنے، آنکھ، کان، زبان کی حفاظت کرنے، باوضو رہنے، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر، وعدہ خلافی، مذاق مسخری، طنز، دل آزاری، نفاق سے بچنے کا ذہن اسی مدَنی ماحول سے ملا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ !  اسی مدَنی ماحول کی برکت سے ظاہر وباطن دُرُست ہوا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدَہ فاطِمہ کے چلنے کا انداز 
	حضرتِ سیِّدُنا مَسْرُوق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ اُمُّ الْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے  فرمایا: ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواجِ مُطَہَّرا ت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جمع تھیں  اور ہم میں  سے کوئی ایک بھی غیر حاضر نہ تھی، اتنے میں  حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا وہاں  تشریف لائیں  ،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا چلنا حضور نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چلنے سے ذرّہ بھر مختلف نہ تھا۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، ما رَوَتْ عائشۃُ اُمُّ المؤمنین عن فاطمۃَ ،ج۹، ص۳۷۳، الحدیث: ۱۸۴۶۶)