پھینک کر ہم بھاگ کھڑے ہوئے۔ گھر آکر میں نے عزیزوں سے اُس لڑکی کا جُرم دریافْتْ کیا تو بتایا گیا کہ اس میں فی زمانہ معیوب سمجھا جانے والا کوئی جُرم تو نہیں تھا، البتَّہ آج کل کی عام لڑکیوں کی طرح یہ بھی فیشن ایبل تھی اورپردہ نہیں کرتی تھی، ابھی اِنتِقال سے چند روز پہلے رشتے داروں میں شادی تھی تو اس نے فینسی بال کٹوا کر بن سنور کر عام عورَتوں کی طرح شادی کی تقریب میں بے پردہ شرکت کی تھی۔
اے مِری بہنو! سدا پردہ کرو تم گلی کُوچوں میں مت پھرتی رہو
ورنہ سن لو قبر میں جب جاؤ گی سانپ بچّھو دیکھ کر چِلّاؤ گی
(پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۲۸۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَــغْــفِــــــرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ فرعونی بہروپیا (بَہ۔رُو۔پِ۔یا، نقّال) کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس وجہ سے غرق نہیں کیا کہ اس کا ظاہر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے رسول حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جیسا تھا۔ ہم بھی اپنے اوپر غور کر لیں کہ ہمارا ظاہر کس طرح کا ہے؟ خوش قسمت ہیں وہ اسلامی بہنیں جن کو دعوتِ اسلامی کا مدَنی ماحول میسر آ گیا کہ دعوتِ اسلامی