کی دُعا کرتے رَہنا چاہئے۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۶۵-۶۶)
کفن پھاڑ کر اُٹھ بیٹھی!
شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک بے پردہ عورت کا عبرت ناک واقعہ بَیَان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : غالِباً شعبانُ الْمُعظَّم ۱۴۱۴ھ کا آخِری جُمُعہ تھا۔ رات کو کورنگی (بابُ المدینہ کراچی)میں مُنْعَقِدہونے والے ایک عظیمُ الشَّان سنَّتوں بھرے اِجتِماع میں ایک نوجوان سے سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ کی ملاقات ہوئی، اُس نے کچھ اس طرح حلفیہ(یعنی قسم کھا کر) بیان دیا کہ میرے ایک عزیز کی جوان بیٹی اچانک فوت ہو گئی۔ جب ہم تدفین سے فارِغ ہو کر پلٹے تو مرحومہ کے والِد کو یاد آیا کہ اس کا ایک ہینڈ بیگ جس میں اہَمّ کاغذات تھے وہ غَلَطی سے میِّت کے ساتھ قَبْر میں دَفن ہوگیا ہے۔ چُنانچِہ باَمرِ مجبوری دوبارہ قَبْر کھودنی پڑی، جوں ہی قَبْر سے سِل ہٹائی خوف کے مارے ہماری چیخیں نکل گئیں کیونکہ جس جوان لڑکی کی کفن پوش لاش کو ابھی ابھی ہم نے زمین پر لِٹایا تھاوہ کفن پھاڑ کر اُٹھ بیٹھی تھی اوروہ بھی کمان کی طرح ٹیڑھی! آہ! اس کے سر کے بالوں سے اس کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں اورکئی نامعلوم چھوٹے چھوٹے خوفناک جانور اس سے چمٹے ہوئے تھے۔یہ دہشت ناک منظر دیکھ کر خوف کے مارے ہماری گِھگّی بندھ گئی۔ اورہینڈبیگ نکالے بِغیرجُوں تُو ں مِٹّی