سُوال جواب‘‘ صفحہ 65 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقْل فرماتے ہیں : رحمتِ عالَمِیّان، سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نِشان ہے: تین شخص کبھی جنّت میں داخِل نہ ہوں گے دَیُّوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شراب نوشی کا عادی۔(مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج۴، ص۵۹۹، الحدیث:۷۷۲۲)
مزید فرماتے ہیں : مَردوں کی طرح بال کٹوانے اور مَردانہ لباس پہننے والیاں اِس حدیثِ پاک سے عبرت حاصِل کریں ، چھوٹی بچّیوں کے لڑکوں جیسے بال بنوانے اور انہیں لڑکوں جیسے کپڑے اور ہَیٹ وغیرہ پہنانے والے بھی احتیاط کریں تا کہ بچی اسی عمر سے اپنے آپ کو مردوں سے ممتاز سمجھے اور ہوش سنبھالنے اور بالِغہ ہونے کے بعد اس کو اپنی عادات و اَطوار شریعت کے مُطابق بنانے میں مشکلات در پیش نہ آئیں ۔ حدیثِ پاک میں یہ جو فرمایا گیا کہ ’’کبھی جنّت میں داخِل نہ ہوں گے۔‘‘ یہاں اِس سے طویل عرصے تک جنّت میں داخِلے سے محرومی مُراد ہے۔ کیوں کہ جو بھی مسلمان اپنے گناہوں کی پاداش میں مَعَاذَ اللہ دوزخ میں جائیں گے وہ بِالآخِر جنّت میں ضَرور داخِل ہوں گے۔ مگر یہ یا د رہے کہ ایک لمحے کا کروڑواں حصّہ بھی جہنَّم کا عذاب کوئی برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا ہمیں ہر گناہ سے بچنے کی ہر دم کوشِش اور جنّتُ الفِردوس میں بے حِساب داخِلے