صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بَہُت مشابہ تھے اور حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ اس سے نیچے کے حصّہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بَہُت مشابہ تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کی پنڈلی، قدَم شریف اور اِیڑی بالکل حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ تھی۔
(مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج۸، ص۴۸۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قدرتی مُشابَہت
حضور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قدرتی مشابَہت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہے جو اپنے کسی عمل کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ کردے تو اس کی بخشش ہو جا تی ہے (جیسا کہ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا،) ’’مَنْ تَشَّبَہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْجو کسی قوم سے مشابہت کرے گا تووہ ان ہی میں سے ہو گا۔‘‘ تو جسے خدا تعالیٰ اپنے محبوب کے مشابہ کرے اس کی محبوبِیّت کا کیا حال ہو گا۔ (المرجع السابق)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ حدیثِ پاک کے تحت شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمّت حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : یعنی جو شخص دنیا میں کفار،فاسق و بدکار کے سے لباس پہنے، ان کی سی شکل بنائے کل قیامت میں ان کے ساتھ اُٹھے گا۔ اور جو متقی مسلمانوں کی سی شکل بنائے، ان کا لباس پہنے وہ کل قیامت میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! متقیوں کے زُمرہ