Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
108 - 470
	سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !خاتونِ جنّت، اُمُّ الحَسَنیَن حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عادات اپنے بابا جان  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادات جیسی تھیں ۔ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت، آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت جیسی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا کردار، مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتو ں  کا آئینہ دار تھا۔   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی گفتار رسو ل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گفتار جیسی تھی۔ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی نِشَسْت و بَرخاست یعنی اٹھنا بیٹھنا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جیسا تھا۔
	(مفتی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ’’مِرْاٰت‘‘ میں  فرماتے ہیں  :) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے جسم سے جنّت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سونگھا کرتے تھے۔ اس لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا لقب زہرا ہوا۔ (مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج۸، ص۴۵۳) 
بتول و فاطِمہ زَہرا لقَب اس واسطے پایا
کہ دنیا میں  رہیں  اور دیں  پتہ جنّت کی نِگْہَت کا
(دیوانِ سالک از مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان)
	خیال رہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرائرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ، از سر تا قدَم بالکل ہم شکلِ مصطفٰے تھیں ۔ اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے صاحبزادگان میں  یہ مُشابَہَت تقسیم کر دی گئی تھی حضرتِ سیِّدُنا  امام حَسَن  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ سینے اور سر کے درمیان رسولُ اللہ