Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
107 - 470
بَہُت محبّت تھی اور مَحَبَّت کی علامات میں  سے ایک یہ ہے کہ جس سے مَحَبَّت ہو اس کی ہر ادا اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدَہ فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے خود کو ہر اعتبار سے سنّتِ رسول کے سانچے میں  ڈھال رکھا تھا۔ عادات واَطوار، سیرت وکِردار، نِشَسْت وبرخاست، چلنے کے انداز، گفتگو اور صداقتِ کلام میں  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سیرتِ مصطفٰے کا عکس اور نمونہ تھیں ۔
ہم شکلِ مصطفٰے
	حضرتِ سیِّدَہ فاطمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سر سے پاؤں  تک ہم شکلِ مصطفٰے تھیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی چال ڈھال، وضع قطع حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ تھی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو رسولُ  اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جیتی جاگتی تصویر بنایا تھا۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ، صِدِّیقہ، طیِّبہ،طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ  فرماتی ہیں  کہ میں  نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صاحبزادی حضرتِ سیِّدَہ فاطمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بڑھ کر کسی کو عادات واَطوار، سیرت وکِردار اور نِشَسْت وبرخاست میں  آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مشابہت رکھنے والا نہیں  دیکھا ۔
رسولُ اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا!
کیا نظارہ جن آنکھوں  نے تفسیرِ نُبُوَّت(1) کا


________________________________
1 - …یعنی سیِّدہ فاطمۃ الزّہراء  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ۔