Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
101 - 470
امّی جان غالباً 2004ء میں  قادریہ رضویہ عطّاریہ سلسلے میں  بیعت ہو کر عطّاریہ بنیں ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! پنج وقتہ نَماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافِل کی ادائیگی کا بھی معمول بن گیا۔17 صفر المظفر 1430ھ، 13فروری 2009ء کی صبح امی جان نے مجھے نمازِ فجر کے لیے بیدار کیا اور خود نمازِ فجر پڑھنے میں  مشغول ہوگئیں ۔ میں  نماز پڑھ کر لَوٹا تووہ ابھی مصلّے ہی پر تھیں ۔ کچھ دیر بعد انہوں  نے دوبارہ وُضُو کیا اورنَماز اِشراق کی نیَّت باندھ لی۔جب پہلی رَکعَت میں  سجدہ کیا تو سر نہ اٹھایا۔ گھر والے سمجھے کہ شایدامّی جان کو دورانِ نَماز نیند آگئی ہے، جب بیدار کرنے کی غَرَض سے اُنہیں  ہلایاجُلایا تو وہ ایک طرف لُڑھک گئیں  ،گھبرا کر دیکھا تو ان کی رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر چکی تھی! اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔ یوں  لگتا ہے کہ میری امّی جان کو شَہَنشاہِ بغدادحُضُورِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی نسبت اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستگی کام آگئی۔خوش قسمت کہ عین سجدے کی حالت میں  انہوں  نے دَاعِیٔ اَجل کو لَبَّیْک کہا ۔ مزید کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ انتقال کے بعد اُن کا چہرہ بھی بہت نُورانی ہوگیا تھا ۔انتِقال کے تقریباً 15روز کے بعد یعنی 2ربیع النور شریف 1430ھ ،(28فروری 2009ء)  بروز ہفتہ اُن کی قبر کی سِل گرگئی اور قبر میں  مِٹّی بھر گئی۔دُرُستی کیلئے جُوں  ہی قبر کھولی گئی تو ہر طر ف گلاب کے