میں پیدا فرمایا اور اپنے گھر(کعبہ) کا نگہبان اور اپنے حرم کا منتظم بنایااور ہم کو علم و حکمت والا گھر اور امن والا حرم عطا فرمایا اور ہم کو لوگوں پر حاکم بنایا۔
یہ میرے بھائی کا فرزند محمد بن عبداللہ ہے۔ یہ ایک ایسا جوان ہے کہ قریش کے جس شخص کا بھی اس کے ساتھ موازنہ کیا جائے یہ اس سے ہر شان میں بڑھا ہوا ہی رہے گا۔ ہاں مال اس کے پاس کم ہے لیکن مال تو ایک ڈھلتی ہوئی چھاؤں اور ادل بدل ہونے والی چیز ہے۔ اما بعد! میرا بھتیجا محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)وہ شخص ہے جس کے ساتھ میری قرابت اور قربت و محبت کو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو۔ وہ خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرتا ہے اور میرے مال میں سے بیس اونٹ مہر مقرر کرتا ہے اور اس کا مستقبل بہت ہی تابناک،عظیم الشان اور جلیل القدر ہے۔ (1) (زرقانی علی المواہب ج۱ ص۲۰۱)
جب ابو طالب اپنا یہ ولولہ انگیز خطبہ ختم کر چکے تو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے بھی کھڑے ہو کر ایک شاندار خطبہ پڑھا۔ جس کا مضمون یہ ہے:
خدا ہی کے لئے حمد ہے جس نے ہم کو ایسا ہی بنایا جیسا کہ اے ابو طالب ! آپ نے ذکر کیااور ہمیں وہ تمام فضیلتیں عطا فرمائی ہیں جن کو آپ نے شمار کیا۔ بلا شبہ ہم لوگ عرب کے پیشوا اور سردار ہیں اور آپ لوگ بھی تمام فضائل کے اہل ہیں۔ کوئی قبیلہ آپ لوگوں کے فضائل کا انکار نہیں کر سکتااور کوئی شخص آپ لوگوں کے فخر و شرف کو