Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
95 - 872
رد نہیں کر سکتا اور بے شک ہم لوگوں نے نہایت ہی رغبت کے ساتھ آپ لوگوں کے ساتھ ملنے اور رشتہ میں شامل ہونے کو پسند کیا۔ لہٰذا اے قریش! تم گواہ رہو کہ خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میں نے محمد بن عبداللہ(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی زوجیت میں دیا چارسو مثقال مہر کے بدلے۔(1)

غرض حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا نکاح ہوگیا اور حضور محبوب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خانہ معیشت ازدواجی زندگی کے ساتھ آباد ہو گیا۔حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقریباً ۲۵ برس تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں رہیں اور ان کی زندگی میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا باقی آپ کی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔ جن کا تفصیلی بیان آگے آئے گا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی ساری دولت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں پرقربان کر دی اور اپنی تمام عمر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غمگساری اور خدمت میں نثار کر دی جن کی تفصیل آئندہ صفحات میں تحریر کی جائے گی۔
کعبہ کی تعمیر
     آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی راست بازی اور امانت و دیانت کی بدولت خداوند عالم عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اس قدر مقبولِ خلائق بنا دیا اور عقلِ سلیم اور بے مثال دانائی کا ایسا عظیم جوہر عطا فرما دیاکہ کم عمری میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب ،تزوجہ علیہ السلام من خدیجۃ،ج۱، ص۳۷۷
Flag Counter