رد نہیں کر سکتا اور بے شک ہم لوگوں نے نہایت ہی رغبت کے ساتھ آپ لوگوں کے ساتھ ملنے اور رشتہ میں شامل ہونے کو پسند کیا۔ لہٰذا اے قریش! تم گواہ رہو کہ خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میں نے محمد بن عبداللہ(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی زوجیت میں دیا چارسو مثقال مہر کے بدلے۔(1)
غرض حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا نکاح ہوگیا اور حضور محبوب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خانہ معیشت ازدواجی زندگی کے ساتھ آباد ہو گیا۔حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقریباً ۲۵ برس تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں رہیں اور ان کی زندگی میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا باقی آپ کی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔ جن کا تفصیلی بیان آگے آئے گا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی ساری دولت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں پرقربان کر دی اور اپنی تمام عمر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غمگساری اور خدمت میں نثار کر دی جن کی تفصیل آئندہ صفحات میں تحریر کی جائے گی۔