یعنی میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اچھے اخلاق اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سچائی کی وجہ سے آپ کو پسند کیا۔ (1)(زرقانی علی المواہب ج۱ ص۲۰۰)
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس رشتہ کو اپنے چچاابو طالب اور خاندان کے دوسرے بڑے بوڑھوں کے سامنے پیش فرمایا۔ بھلا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیسی پاک دامن شریف، عقلمند اور مالدار عورت سے شادی کرنے کو کون نہ کہتا؟ سارے خاندان والوں نے نہایت خوشی کے ساتھ اس رشتہ کو منظور کر لیا۔اورنکاح کی تاریخ مقرر ہوئی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو طالب وغیرہ اپنے چچاؤں اور خاندان کے دوسرے افراد اور شرفاء بنی ہاشم و سرداران مضر کو اپنی برات میں لے کر حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور نکاح ہوا۔ اس نکاح کے وقت ابوطالب نے نہایت ہی فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا۔ اس خطبہ سے بہت اچھی طرح اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اعلانِ نبوت سے پہلے آپ کے خاندانی بڑے بوڑھوں کا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے متعلق کیسا خیال تھااور آپ کے اخلاق و عادات نے ان لوگوں پر کیسا اثر ڈالا تھا۔(2) ابو طالب کے اس خطبہ کا ترجمہ یہ ہے:
تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے ہم لوگوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں بنایا اور ہم کو معد اور مضر کے خاندان