حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مال و دولت کے ساتھ انتہائی شریف اور عفت مآب خاتون تھیں ۔اہل مکہ ان کی پاک دامنی اور پارسائی کی وجہ سے ان کو طاہرہ (پاکباز) کہا کرتے تھے۔ ان کی عمر چالیس سال کی ہو چکی تھی پہلے ان کا نکاح ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی سے ہوا تھا اور ان سے دو لڑکے ''ہند بن ابو ہالہ'' اور ''ہالہ بن ابو ہالہ'' پیدا ہو چکے تھے۔ پھر ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دوسرا نکاح ''عتیق بن عابد مخزومی'' سے کیا۔ ان سے بھی دو اولاد ہوئی ، ایک لڑکا ''عبداللہ بن عتیق'' اور ایک لڑکی ''ہند بنت عتیق'' ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دوسرے شوہر ''عتیق'' کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ بڑے بڑے سردار ان قریش ان کے ساتھ عقد نکاح کے خواہش مند تھے لیکن انہوں نے سب پیغاموں کو ٹھکرا دیا۔ مگر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ اخلاق و عادات کو دیکھ کر اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حیرت انگیز حالات کوسن کر یہاں تک ان کا دل آپ کی طرف مائل ہو گیا کہ خود بخود ان کے قلب میں آپ سے نکاح کی رغبت پیدا ہو گئی۔ کہاں تو بڑے بڑے مالداروں اور شہر مکہ کے سرداروں کے پیغاموں کو رد کر چکی تھیں اوریہ طے کر چکی تھیں کہ اب چالیس برس کی عمر میں تیسرا نکاح نہیں کروں گی اور کہاں خود ہی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلایا جو ان کے بھائی عوام بن خویلد کی بیوی تھیں۔ ان سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کچھ ذاتی حالات کے بارے میں مزیدمعلومات حاصل کیں پھر ''نفیسہ'' بنت امیہ کے ذریعہ خود ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ مشہور امام سیرت محمد بن اسحق نے لکھا ہے کہ اس رشتہ کو پسند کرنے کی جو وجہ حضرت