میں کمان کا اتنا ادب و احترام کرتا ہوں کہ بلا وضو کسی کمان کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ (1)
(شفاء شریف جلد ۲ ص ۴۴)
(۷)حضرت امام مالک رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے سامنے کسی نے یہ کہہ دیا کہ ''مدینہ کی مٹی خراب ہے ''یہ سن کر حضرت امام موصوف نے یہ فتویٰ دیا کہ اس گستاخ کو تیس درے لگائے جائیں اوراس کو قید میں ڈال دیا جائے اور یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کو قتل کر دینے کی ضرورت ہے جو یہ کہے کہ مدینہ کی مٹی اچھی نہیں ہے۔(2)(شفاء شریف جلد۲ ص۴۴)
(۸)ایک دن سقیفۂ بنی ساعدہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ رونق افروز تھے۔ آپ نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ہمیں پانی پلاؤ۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک پیالہ میں آپ کو پانی پلایا۔ حضرت ابوحازم کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت سہل بن سعد کے یہاں مہمان ہوئے تو انہوں نے وہی پیالہ ہمارے واسطے نکالا اور برکت حاصل کرنے کے لئے ہم لوگوں نے اسی پیالے میں پانی پیا۔ اس پیالہ کو حضرت عمر بن عبدالعزیز اموی خلیفہ عادل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت سہل بن سعد سے مانگ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ (3)
(صحیح مسلم جلد۲ ص۱۶۹ باب اباحۃ النبیذالذی الخ)
(۹)جب بنوحنیفہ کا وفد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو اس وفد میں حضرت سیار بن طلق یمامی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تھے انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے اپنے پیراہن شریف کا ایک ٹکڑا عنایت فرمائیے میں اس سے اپنا دل بہلایا کروں گا۔