Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
843 - 872
صحابی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے یہ فرمائش کی کہ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقدس بال ہے میں جب مر جاؤں توتم اس کو میری زبان کے نیچے رکھ دینا۔ چنانچہ میں نے ان کی وصیت کے مطابق ان کی زبان کے نیچے رکھ دیا اور وہ اسی حالت میں دفن ہوئے۔(1)                         (اصابہ ترجمہ انس بن مالک)

    اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز اموی خلیفہ عادل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چند موئے مبارک اور ناخن دکھا کر لوگوں سے وصیت فرمائی کہ ان تبرکات کو آپ لوگ میرے کفن میں رکھ دیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (2)(طبقات ابن سعد جلد۵ص۳۰۰)

(۵)حضرت امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت امام مالک رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے مجھ کو چند گھوڑے عنایت فرمائے تو میں نے عرض کیا کہ ایک گھوڑا آپ اپنی سواری کے لئے رکھ لیجئے توآپ نے فرمایاکہ مجھ کوبڑی شرم آتی ہے کہ جس شہرکی زمین میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آرام فرمارہے ہیں اس شہر کی زمین کومیں اپنی سواری کے جانور کے کھروں سے روندواؤں۔(چنانچہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی زندگی بھر مدینہ ہی میں رہے مگرکبھی کسی سواری پرمدینہ منورہ میں سوار نہیں ہوئے۔ ) (3) (شفاء شریف ج۲ص۴۴)

(۶)حضرت احمد بن فضلویہ جن کا لقب زاہدہے، یہ بہت بڑے مجاہد تھے اور تیراندازی میں بہت ہی باکمال تھے۔ ان کا بیان ہے کہ جب سے مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کمان بھی اُٹھائی ہے۔ اس وقت سے
1۔۔۔۔۔۔الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، انس بن مالک بن النضر ،ج۱،ص۲۷۶

2۔۔۔۔۔۔الطبقات الکبری لابن سعد ، عمربن عبدالعزیز،ج۵،ص۳۱۸

3۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،فصل ومن اعظامہ واکبارہ...الخ ،ج۲، ص ۵۷
Flag Counter