Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
845 - 872
حضور نے ان کی درخواست منظور فرما کر ان کو پیراہن شریف کا ایک ٹکڑا دے دیا۔ ان کے پوتے محمد بن جابر کا بیان ہے کہ میرے والد کہتے تھے کہ وہ مقدس ٹکڑا برسہا برس ہمارے پاس تھا اور ہم اس کو دھوکر بغرض شفاء بیماروں کو پلایا کرتے تھے۔(1)               (اصابہ ترجمہ سیار بن طلق)
(۱۰) مشک کا منہ کاٹ لیا
    ایک صحابیہ حضرت کبشہ انصاریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور ان کی مشک کے منہ سے آپ نے اپنامنہ لگا کر پانی نوش فرما لیا تو حضرت کبشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے اس مشک کا منہ کاٹ کر تبرکاً اپنے پاس رکھ لیا ۔ (2)

                 (ابن ماجہ ص۲۵۳ باب الشرب قائماً)

(۱۱)حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس تلوار ''ذوالفقار'' حضرت زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ جب حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد وہ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت مسور بن مخرمہ صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ بنو امیہ آپ سے اس تلوار کو چھین لیں گے۔ اس لئے آپ مجھے وہ تلوار دے دیجئے جب تک میرے جسم میں جان ہے کوئی اِس کو مجھ سے نہیں چھین سکتا۔ (3)    (بخاری جلد۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من درع النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
1۔۔۔۔۔۔الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،سیار بن طلق الیمامی ،ج۳، ص ۱۹۴

2۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ ،کتاب الاشربۃ، باب الشرب قائما،الحدیث:۳۴۲۳،ج۴، ص ۸۰

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماذکرمن درع النبی...الخ،الحدیث: 

۳۱۱۰،ج۲،ص۳۴۴
Flag Counter