مقدس بال سلے ہوئے تھے۔ کسی جنگ میں ان کی ٹوپی سر سے گر پڑی تو آپ نے اتنا زبردست حملہ کر دیا کہ بہت سے مجاہدین شہید ہو گئے۔ آپ کے لشکر والوں نے ایک ٹوپی کے لئے اتنے شدید حملہ کو پسند نہیں کیا۔ لوگوں کا طعنہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میں نے ٹوپی کے لئے یہ حملہ نہیں کیا تھا بلکہ میرے اس حملہ کی یہ و جہ تھی کہ میری اس ٹوپی میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں مجھے یہ اندیشہ ہو گیا کہ میں ان کی برکتوں سے کہیں محروم نہ ہو جاؤں اور یہ کفار کے ہاتھوں میں نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے اپنی جان پر کھیل کر اس ٹوپی کو اٹھا کر ہی دم لیا۔(1) (شفاء شریف جلد۲ ص۴۴)
(۲)حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے منبر شریف پر جس جگہ آپ بیٹھتے تھے خاص اس جگہ پر اپنا ہاتھ پھرا کر اپنے چہرے پر مسح کیا کرتے تھے۔ (2) (شفاء شریف جلد۲ ص۴۴)
(۳)حضرت ابو محذورہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ جو صحابی اور مسجد حرام کے مؤذن ہیں ان کے سر کے اگلے حصہ میں بالوں کا ایک جوڑا تھا۔ جب وہ زمین پر بیٹھتے اور اس جوڑے کو کھول دیتے تو بال زمین سے لگ جاتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ ان بالوں کو منڈواتے کیوں نہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں ان بالوں کو منڈوا نہیں سکتا کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے میرے ان بالوں کو اپنے دست مبارک سے مسح فرما دیا ہے۔(3)
(شفاء شریف جلد۲ ص۴۴)
(۴)حضرت ثابت بنانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت انس بن مالک