| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت قباث بن اُشیم سے پوچھا کہ تم بڑے ہو یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم؟ انہوں نے کہا کہ بڑے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی ہیں مگر میری پیدائش حضور سے پہلے ہوئی ہے۔(1)
(ترمذی جلد۲ ص۲۰۲ باب ماجاء فی میلاد النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ادب
حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کچھ دریافت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر کمالِ ادب اور آپ کی ہیبت سے برسوں دریافت نہیں کر سکتا تھا۔ (2) (شفاء شریف جلد۲ ص۳۲)
آثار شریفہ کی تعظیم
حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ کے ادب و احترام کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے ایمان کی جان سمجھتے تھے۔ بلکہ وہ چیزیں کہ جن کو آپ کی ذات والا سے کچھ تعلق و انتساب ہو ان کی تعظیم و توقیر کو بھی اپنے لئے لازم الایمان جانتے تھے۔ اسی طرح تابعین اور دوسرے سلف صالحین بھی آپ کے تبرکات کا بے حد احترام اور ان کا اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ اس کی چند مثالیں ہم ذیل میں تحریر کرتے ہیں جو اہل ایمان کے لئے نہایت ہی عبرت خیز و نصیحت آموز ہیں۔ (۱)حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ٹوپی میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چند
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب ماجاء فی میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث: ۳۶۳۹،ج۵،ص۳۵۶ 2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،فصل فی عادۃالصحابۃ فی تعظیمہ...الخ،ج۲،ص ۴۰