| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
نیز آیت کے آخری ٹکڑے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس کے دل میں اﷲ و رسول کی محبت نہیں یقینا بلا شبہ اس کے ایمان میں خلل ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔(1)
(بخاری جلد۱ ص۷ باب حب الرسول)
حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کتنی والہانہ محبت تھی اگر آپ کو اس کی تجلیوں کانظارہ کرناہے تومندرجہ ذیل واقعات کو عبرت کی نگاہوں سے دیکھئے اور عبرت حاصل کیجئے۔ایک بڑھیا کا جذبہ محبت
آپ جنگ ِ اُحد کے بیان میں پڑھ چکے ہیں کہ شیطان نے بے پرکی یہ خبر اڑا دی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ یہ ہولناک خبر جب مدینہ منورہ میں پہنچی تو وہاں کی زمین دہل گئی یہاں تک کہ وہاں کی پردہ نشین عورتوں کے دل و دماغ میں صدمات غم کا بھونچال آ گیا اور قبیلہ بنی دینار کی ایک عورت اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے گھرسے نکل پڑی اورمیدان جنگ کی طرف چل پڑی راستے میں اس کو اپنے باپ اوربھائی اور شوہر کی شہادت کی خبر ملی مگر اس نے اس کی کوئی پروا نہیں کی اور لوگوں سے یہی پوچھتی رہی کہ مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ جب اسے بتایا گیا کہ الحمد ﷲ!آپ ہر طرح بخیریت ہیں تواس سے اس بڑھیا کی تسلی نہیں ہوئی
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حب الرسول من الایمان،الحدیث:۱۵،ج۱،ص۱۷