| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اسی طرح ہر امتی پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا حق ہے کہ وہ سارے جہان سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھے اور ساری دنیا کی محبوب چیزوں کو آپ کی محبت کے قدموں پر قربان کر دے ۔خداوند قدوس جل جلالہ کا فرمان ہے کہ
قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾
(اے رسول)آپ فرمادیجئے اگرتمہارے باپ اورتمہارے بیٹے اورتمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈرہے اورتمہارے پسندیدہ مکان یہ چیزیں اﷲ اور اسکے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اﷲ اپنا حکم لائے اور اﷲ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ ( توبہ) اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر اﷲ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت فرض عین ہے کیونکہ اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو! جب تم ایمان لائے ہو اور اﷲ و رسول کی محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو اب اس کے بعد اگر تم لوگ کسی غیر کی محبت کو اﷲ و رسول کی محبت پر ترجیح دو گے تو خوب سمجھ لو کہ تمہارا ایمان اور اﷲ و رسول کی محبت کا دعویٰ بالکل غلط ہو جائے گا اور تم عذاب الٰہی اور قہر خداوندی سے نہ بچ سکوگے۔
1۔۔۔۔۔۔پ۱۰،التوبۃ:۲۴