| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی وفات سے صرف چند گھنٹے پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کفن مبارک میں کتنے کپڑے تھے اور آپ کی وفات کس دن ہوئی؟ اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی یہ انتہائی تمنا تھی کہ زندگی کے ہر ہر لمحات میں تو میں نے اپنے تمام معاملات میں حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں کی مکمل طور پراتباع کی ہے۔ مرنے کے بعد کفن اور وفات کے دن میں بھی مجھے آپ کی اتباعِ سنت نصیب ہو جائے۔
(1) (بخاری جلد۱ ص۱۸۶ باب موت یوم الاثنین)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بھنی ہوئی بکری
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا گزر ایک ایسی جماعت پر ہوا جس کے سامنے کھانے کے لئے بھنی ہوئی مسلّم بکری رکھی ہوئی تھی۔ لوگوں نے آپ کو کھانے کے لئے بلایا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہہ کرکھانے سے انکار کر دیا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور کبھی جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی میں بھلا ان لذیذ اور پر تکلف کھانوں کو کھانا کیونکر گوارا کر سکتا ہوں۔(2)
(مشکوٰۃ جلد۱ ص۴۴۶ باب فضل الفقرا ء)حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پرنالہ
منقول ہے کہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے ملا ہوا تھا اور اس مکان کاپرنالہ بارش میں انے جانے والے نمازیوں کے اوپرگراکرتاتھا۔امیرالمؤمنین
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب موت یوم الاثنین،الحدیث:۱۳۸۷،ج۱،ص۴۶۸ 2۔۔۔۔۔۔مشکوۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب فضل الفقراء...الخ،الحدیث:۵۲۳۸،ج۲،ص۲۵۴