حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ اور آپ کی سنت مقدسہ کی اتباع اور پیروی ہر مسلمان پر واجب و لازم ہے۔ رب العزت جل جلالہ کا فرمان ہے کہ
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾ (2)
(اے رسول)فرما دیجئے کہ اگرتم لوگ اﷲ سے محبت کرتے ہو تومیری اتباع کرواﷲ تم کواپنا محبوب بنا لے گااورتمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اﷲ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔(آل عمران)
اسی لئے آسمان امت کے چمکتے ہوئے ستارے، ہدایت کے چاند تارے، اﷲ و رسول کے پیارے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم آپ کی ہر سنت کریمہ کی اتباع اور پیروی کو اپنی زندگی کے ہر دم قدم پر اپنے لئے لازم الایمان اور واجب العمل سمجھتے تھے اور بال برابر بھی کبھی کسی معاملہ میں بھی اپنے پیارے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس سنتوں سے انحراف یا ترک گوارا نہیں کر سکتے تھے۔(3)
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،القسم الثانی فیمایجب علی الانام...الخ،الباب
الاول فی فرض الایمان بہ...الخ، الجزء الثانی،ص۲۔۳ملخصاً
2۔۔۔۔۔۔پ۳،ال عمرٰن:۳۱
3۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،القسم الثانی فیمایجب علی الانام...الخ،الباب الاول فی
فرض الایمان بہ...الخ، فصل واماوجوب...الخ،الجزء الثانی،ص۸۔۹ملخصاً