| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلاماُمّت پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حقوق
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کی ہدایت واصلاح اور ان کی صلاح و فلاح کے لئے جیسی جیسی تکلیفیں برداشت فرمائیں اور اس راہ میں آپ کو جو جو مشکلات درپیش ہوئیں ان کا کچھ حال آپ اس کتاب میں پڑھ چکے ہیں۔ پھر آپ کو اپنی امت سے جو بے پناہ محبت اور اسکی نجات و مغفرت کی فکر اور ایک ایک امتی پر آپ کی شفقت و رحمت کی جو کیفیت ہے اس پر قرآن میں خداوند قدوس کا فرمان گواہ ہے کہ
لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾ (1)
بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پربہت ہی نہایت ہی رحم فرمانے والے ہیں۔(سورہ توبہ) پوری پوری راتیں جاگ کر عبادت میں مصروف رہتے اور امت کی مغفرت کے لئے دربار باری میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرماتے رہتے۔ یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اکثر آپ کے پائے مبارک پر ورم آ جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ حضور سرور انبیاء، محبوب کبریا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کے
1۔۔۔۔۔۔پ۱۱،التوبۃ:۱۲۸