Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
818 - 872
    چنانچہ قطب الدین قسطلانی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب ''جمل الایجاز فی الاعجاز'' میں لکھا ہے کہ وہ آگ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خبر غیب کے مطابق ۶۵۴؁ھ میں مدینہ منورہ کے پاس قبیلہ قریظہ کی پہاڑیوں سے نمودار ہوئی وہ پتھروں کو جلا دیتی تھی اور کچھ پتھروں کو گلا دیتی تھی۔ یہ آگ جب بڑھتے بڑھتے حرم مدینہ کے قریب ایک پتھر کے پاس پہنچی جس کا آدھا حصہ حرم مدینہ میں داخل تھا اور آدھا حصہ حرم مدینہ سے خارج تھا تو پتھر کا جو حصہ خارجِ حرم تھا اس کو اس آگ نے جلا دیا لیکن جب اس نصف حصہ تک پہنچی جو حرم مدینہ میں داخل تھا تو فوراً ہی وہ آگ بجھ گئی۔

    اسی طرح امام قرطبی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ آگ مدینہ طیبہ کے قریب سے ظاہر ہوئی اور دریا کی طرح موج مارتی ہوئی یمن کے ایک گاؤں تک پہنچ گئی اور اس کو جلا کر راکھ کر دیا مگر مدینہ طیبہ کی جانب اس آگ میں سے ٹھنڈی ٹھنڈی نسیم صبح جیسی ہوائیں آتی تھیں۔ اس آگ کا واقعہ چند اوراق پہلے ہم مفصل طور پر لکھ چکے ہیں۔ (الکلام المبین ص۱۰۷)

    اسی طرح ''نسیم الریاض'' میں لکھا ہے کہ ''عدیم بن طاہر علوی'' کے پاس چودہ موئے مبارک تھے انہوں نے ان کو امیر حلب کے دربار میں پیش کیا۔ امیر حلب نے خوش ہو کر اس مقدس تحفہ کو قبول کیا اور علوی صاحب کی انتہائی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے ان کو انعام و اکرام سے مالا مال کر دیالیکن اس کے بعد جب دوبارہ علوی صاحب امیر حلب کے دربار میں گئے تو امیر نے تیوری چڑھا کر بہت ہی ترش روئی کے ساتھ بات کی اور ان کی طرف سے نہایت ہی بے التفاتی کے ساتھ منہ پھیر لیا۔ علوی صاحب نے اس بے توجہی اور ترش روئی کا سبب پوچھاتو امیر حلب نے کہا کہ میں نے لوگوں