کی زبانی یہ سنا ہے کہ تم جو موئے مبارک میرے پاس لائے تھے ان کی کچھ اصل اور کوئی سند نہیں ہے۔ علوی صاحب نے کہا کہ آپ ان مقدس بالوں کو میرے سامنے لائیے۔ جب وہ آ گئے تو انہوں نے آگ منگوائی اور موئے مبارک کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا پوری آگ جل جل کر راکھ ہو گئی مگر موئے مبارک پر کوئی آنچ نہیں آئی بلکہ آگ کے شعلوں میں موئے مبارک کی چمک دمک اور زیادہ نکھر گئی ۔یہ منظر دیکھ کر امیر حلب نے علوی صاحب کے قدموں کا بوسہ لیا اور پھر اس قدر انعام وا کرام سے علوی صاحب کو نوازا کہ اہل دربار ان کے اعزاز و وقار کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ (الکلام المبین ص۱۰۸)
اسی طرح حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دستر خوان کی روایت مشہور ہے کہ چونکہ اس دستر خوان سے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اور روئے اقدس کو صاف کر لیا تھا اس لئے یہ دسترخوان آگ کے جلتے ہوئے تنور میں ڈال دیا جاتاتھا مگر آگ اس کو جلاتی نہیں تھی بلکہ اس کو صاف وستھرا کر دیتی تھی۔(1) (مثنوی شریف مولانا رومی)